ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پاکستان کے ساتھ سرحدی تجارت ہو سکتی ہے بند،این آئی اے کرے گی حکومت سے سفارش

پاکستان کے ساتھ سرحدی تجارت ہو سکتی ہے بند،این آئی اے کرے گی حکومت سے سفارش

Sun, 02 Jul 2017 10:40:08    S.O. News Service

نئی دہلی،یکم جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)قومی جانچ ایجنسی ہندوستانی حکومت سے پاکستان کے ساتھ ایل او سی سرحدی تجارت بند کرنے کی سفارش کر سکتی ہے۔پاکستان کے ساتھ کنٹرول لائن اشیاء تبادلہ تجارت 2008میں شروع ہوئی تھی۔کنٹرول لائن پرہندوستان اور پاکستان کے درمیان تجارت پر این آئی اے کی تحقیقات تقریبا مکمل ہو گئی ہے۔این آئی اے اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ایجنسی، کسٹم نظام اشیاء تبادلہ تجارت کے اخراجات کو بند کرنے کی سفارش کرنے والی حکومت کو لکھنے کے فیصلے پر پہنچی ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کاروبار کو بند کر دیا جائے۔ذرائع کی مانیں تو اس تجارت کا جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں اور علاقے میں بدامنی پھیلانے کے لئے غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

دراصل پی او سے کاروبار اشیاء تبادلہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔دونوں طرف سے اشیاء کے بدلے اشیاء دی اور لی جاتی ہیں۔اسلام آباد اور چاکن دا باغ تجارت میں سہولت مراکز سے ہونے والی 21اشیاء کی ایل او سی اشیاء تبادلہ کاروبار کو 2008میں اعتماد بحال کرنے کے طور پر شروع کیا گیا تھا، لیکن یہ اس مقصد پر کھرا نہیں اترا۔این آئی اے کی مانیں تو آئی ایس آئی نے پتھربازوں کی فنڈنگ کے لئے پی او میں باقاعدہ فنڈمنیجر تعینات کئے ہوئے ہیں۔یہ ایجنٹ سرحد پر سامان کے تبادلے کی فرضی ان-وائسنگ کا سہارا لیتے ہیں۔درآمد اور برآمد اشیاء کی قیمت کم کرکے دکھائی جاتی ہے اور باقی رقم کا بڑا حصہ علیحدگی پسندوں تک پہنچایا جاتا ہے۔این آئی اے کی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ 2008سے 2016کے درمیان اڑی کے راستے پاکستان کی جانب سے کل 2ہزار کروڑ روپے کا سامان برآمد کیا گیا۔وہیں ہندوستان نے اس دوران 1900کروڑ کا سامان اس پار بھیجا۔ذرائع کی مانیں تو باقی 100کروڑ وادی میں پتھربازوں اور ہتھیاربند دہشت گردوں کی فنڈنگ کے لئے استعمال کئے گئے۔

اسی طرح 2008سے 2016کے درمیان پونچھ کے راستے ہندوستان نے پاکستان کو کل 650کروڑ روپے کا سامان برآمد کیا۔بدلے میں پاکستان سے 2100کروڑ روپے کا سامان ہندوستان آیا،یعنی کشمیر کی کچھ ٹریڈنگ کمپنیوں کی مدد سے آئی ایس آئی 1450کروڑ روپے دہشت گردوں تک پہنچانے میں کامیاب رہی۔این آئی اے کو شک ہے کہ اس ترکیب سے وادی بھیجا گیا پیسہ حریت رہنماؤں تک بھی پہنچا ہے۔اس رقم کا بڑا حصہ پتھربازوں کو دیا جا رہا ہے۔ذرائع کی مانیں تو فی الحال قریب 667ٹریڈنگ کمپنیاں جانچ کے گھیرے میں ہیں۔ان میں سے 6-7ٹریڈنگ کمپنیوں سے کئی دور کی پوچھ گچھ ہو چکی ہے۔


Share: